سوشل میڈیاپرجواب نہیں دینا چاہتے ، کل مشاورت کے بعد ٹرمپ کی ٹویٹ کا جواب دیا جائے گا : خواجہ آصف

ویب ڈیسک_اسلام آباد وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہاہے کہ ٹرمپ کی ٹویٹ کو سنجیدہ لے رہے ہیں، کل مشاورت کے بعد ٹرمپ کی ٹویٹ کا جواب دیا جائے گا ۔
خواجہ آصف کا کہناتھا کہ امریکی صدر کے بیان پرسوشل میڈیاپرجواب نہیں دینا چاہتے ، ہم چاہتے ہیں کہ ایسے بیانات سے خطے کاامن متاثرنہ ہو ۔ ان کا کہناتھا کہ ملک کی سرحدوں کے د فاع کیلئے ہمہ وقت تیاررہناچاہیے ، پاکستان کے مفادات کاتحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، ہم قومی مفادات میں فیصلے کریں گے ۔
خواجہ آصف کا کہناتھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں اپنی ناکامی پر مایوسی کا شکار ہیں اس لیے پاکستان پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق ٹوئٹ پر ویزراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ تبادلہ خیال گیا۔
خواجہ آصف نے امریکی صدر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے غلط بیانی سے کام لیا، امریکا نے ہمیں خدا واسطے امداد نہیں دی بلکہ اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری زمین، ہماری سڑکیں، ہماری فضائی حدود اور ہماری ریلوے استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ہمیں جو امداد دیتا تھا اس کا باقاعدہ آڈٹ ہوتا تھا اور ہم امریکا کو ایک ایک پائی کا سرعام حساب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فراہم کی جانے والی سروسز کے معاوضے کو بھی امداد میں شامل کر لیا ہے۔امریکا کی جانب سے پاکستان کے شہری علاقوں میں ڈرون حملوں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ جب ایسا موقع آئے گا تو اپنی سرزمین کی حفاظت کریں گے اور امریکا کے حملے کا بھرپور جواب دیں گے۔
امریکی صدر کی جانب سے نو مور کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ ہم امریکا کو پہلے ہی نو مور کہہ چکے، لہذا ہمارے بیان کے بعد ٹرمپ کے نومور کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی پاکستان کے مفاد کے گرد گھومتی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں امریکی ناکامیوں کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں، امریکا افغانستان میں بند گلی میں پھنسا ہوا ہے اور اپنی ناکامی کا غصہ بار بار پاکستان پر اتار رہا ہے لیکن امریکا کو افغانستان میں اپنی 15 سالہ ناکامیوں کا حساب اپنے لوگوں سے لینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو چاہیے افغانستان میں فوجی طاقت کے بجائے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنائے، افغانستان کے مسئلے کا حل ا±س کے ہمسایوں کے پاس ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+