صحت کی سہولیات میں اضافہ کے انجمن ہلال احمر کمیٹی کو فعال کیا جا رہا ہے، انجمن ہلال احمر کمیٹی کے تحت ضلع جہلم کی چار تحصیلوں میں فری میڈیکل کیمپس کا قیام کیا جا رہا ہے، کمیٹی کے تحت فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے متعلقہ افسران اور مخیر حضرات کا تعاون حاصل ہےڈپٹی کمشنر جہلم محمد سیف انور جپہ

جہلم (ڈاکٹر عمران جاوید)ڈپٹی کمشنر جہلم محمد سیف انور جپہ نے انجمن ہلال احمر کمیٹی جہلم کے ممبران کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں کہا کہ صحت کی سہولیات میں اضافہ کے انجمن ہلال احمر کمیٹی کو فعال کیا جا رہا ہے، انجمن ہلال احمر کمیٹی کے تحت ضلع جہلم کی چار تحصیلوں میں فری میڈیکل کیمپس کا قیام کیا جا رہا ہے، کمیٹی کے تحت فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے متعلقہ افسران اور مخیر حضرات کا تعاون حاصل ہے۔صحت و تعلیم کو فروغ دینے کے لئے ایسے اداروں نے ہمیشہ اپنا حصہ ڈالا ہے اور حکومت پنجاب کے ویژن کے مطابق گورنمنٹ سیکٹر میں بہترین سہولیات سے آراستہ ہسپتال کام کر رہے ہیں، انجمن ہلال احمر کے تحت ضلع بھر کی تمام تحصیلوں میں سردی سے بچاؤ کے لئے مستحقین میں 1000 کمبل تقسیم کیے گئے ہیں،اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ انجمن ہلال احمر کمیٹی کے تحت معیاری شیلٹر ہوم بھی بنایا جائے گا۔انہوں نے بتایا ہے کہ انجمن ہلال احمر کمیٹی ایمبولینس سروس بھی شروع کی جا چکی ہے ایمبولینسز 1024 ہیلپ لائن کے ذریعے میسر ہو سکیں گی۔ اجلاس میں سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر وسیم اقبال، اے سی جہلم فیضان احمد، اے سی دینہ شہزاد محبوب، ڈی ایچ او ڈاکٹر میاں مظہر حیات،ڈی او انفارمیشن عثمان احمد سندھو، سماجی کارکن فرحت ضیا کمال، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سہیل ناصر، سیکرٹری ڈی آر ٹی اے صدام حسین، اور دیگر محکموں کے افسران دیگر نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر سیف انور نے کہا ہے کہ مخیر حضرات سے مل کر دیگر پروجیکٹس پر بھی کام کیا جاے گا انہوں نے کہا ہے کہ دیگر نجی ادارے بھی حکومتی مشینری کا ساتھ دے رہیں۔7 ڈسپنسریوں کے ذریعے مریضوں کو بنیادی ادویات فراہم کر رہی ہیں، انجمن ہلال احمر کے تحت ضلع بھر میں شعبہ صحت میں مزید بہتری کی گنجائش باقی ہے، صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی کے لئے مخیر خضرت کو ایسے اداروں کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ عوام کو درپیش صحت و تعلیم کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ہلال احمر جیسے اداروں کی حمایت کرنی چاہیے۔ جس سے علاقہ کے لوگوں کا مقامی سطح پر علاج معالجہ ممکن ہوسکے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+