ڈسٹرک ہیڈ کواٹر ہسپتال جہلم گائنی وارڈ میں خواتین کو جو سہولیات میسر ہیں وہ کسی دوسرے ہسپتال میں مہیا نہیں کی جاتیں۔

جہلم (صداقت راجہ)ڈسٹرک ہیڈ کواٹر ہسپتال جہلم گائنی وارڈ میں خواتین کو جو سہولیات میسر ہیں وہ کسی دوسرے ہسپتال میں مہیا نہیں کی جاتیں۔ اسی بنا پر محکمہ صحت جہلم ہمیشہ پنجاب میں نمبر ۱ پر رہا ہے۔ جنوری تا ۲۲نومبر 2351خواتین کا بذریعہ بڑے اپریشن ڈیلوری کی گئی۔اگر یہ خواتین پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرواتیں تو تقریباً دس کروڑ سے زائد اخراجات آتے۔ ڈاکٹرسویرا بخاری انچارج گائنی وارڈ جہلم
تفصیلا ت کے مطابق گذشتہ روز ڈاکٹرسویرا بخاری انچارج گائنی وارڈ جہلم نے ملت پریس کلب سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ کے فضل سے محدود وسائل ہونے کے باوجود گائنی وارڈ جہلم میں خواتین کو ہر ممکن سہولت دی جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گائنی وارڈ میں خواتین کو تمام اقسام کی دوائیاں مفت فراہم کی جاتی ہیں اور حسب ضرورت تمام اقسام کے ٹیسٹ بھی مفت کیے جاتے ہیں۔ حکومت پنجاب کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے تمام خواتین کو ڈیلوری کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کے بعد بھی مفت ادویات دی جاتی ہیں بلا شبہ گائنی وارڈ معیاری بنانے میں مرکزی کردار ایم ایس ڈاکڑ شعیب کیانی کا ہے جو ہماری تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔اس حوالے سے ڈاکڑ وسیم اقبال سی او ہیلتھ جہلم کی ہمہ وقت رہنمائی ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ مزکورہ انچارج کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ناقص معلومات کی بنیاد پر گائنی وارڈ جہلم کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ ہم اللہ کی خوشنودی کے پیش نظر بلا تفریق تمام خواتین کے ساتھ یکساں خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ سربراہ گائنی واڈ کا کہنا تھا کہ اس واڈ میں تمام عملہ دن رات یکسوئی کے ساتھ کام کرتا ہے اس کی بڑی وجہ یہ کہ معمولی غلطی سے بھی انسانی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔انہوں نے ریکارڈ کی روشنی میں میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ 2534خواتین کا علاج کیا گیا ہے اور اللہ کی رہنمائی میں 2351خواتین کی بڑے اپریشن کے ذریعے ڈیلوری کی گئی ہے۔41خواتین کا مکمل طور پر پیٹ چاک کر کے دیلوری کی گئی ہے۔27ایسی خواتین کا علاج بھی احسن طریقے سے کیا گیا ہے جن کے پیٹ میں بچے کی موت ڈیلوری سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔ لیڈی ڈاکڑ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس جتنی گنجائش ہے ہم اس سے بڑھ کر کام کررہے ہیں مگر زیادہ مسئلہ اس وقت آتا ہے جب سوہاوہ، پنڈ دادن خان اور دینہ سے مریض بطور ایمرجنسی ہمارے پاس ریفر کیے جاتے ہیں۔اس وقت تمام لیڈی ڈاکرذ کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی جاتی ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+