چوہوں میں انجکشن سے کینسر ختم کرنے میں اہم کامیابی

ویب ڈيسک_اسٹینفورڈ: دنیا بھر میں کینسر کے خاتمے کےلیے ماہرین سر توڑ کوششیں کررہے ہیں اور اب امریکی ماہرین نے ایک انجکشن کے ذریعے چوہوں میں سرطانی رسولیوں (ٹیومرز) کے علاج میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن میں شائع تحقیقات کے مطابق کیلیفورنیا میں واقع اسٹینفرڈ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے سائنس دانوں نے دو اہم ایجنٹوں (خاص کیمیائی مادّوں) کی معمولی مقدار کو انجکشن میں شامل کیا ہے جس سے جسم کے اندرورنی دفاعی نظام (امیون سسٹم) کو تحریک دے کر اسے ٹھوس رسولی کو ختم کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی سائنس داں ڈاکٹر رونلڈ لیوی نے کہا کہ جب ہم نے دو اہم ایجنٹوں کو ملاکر استعمال کیا تو پورے جسم کی رسولیاں ختم ہوگئیں۔ فی الحال اسے چوہوں پر آزمایا گیا ہے۔ اس طریقہ علاج میں ایک جانب تو ٹیومر کا مخصوص امنیاتی نظام جاننے کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی مریض کے پورے امنیاتی نظام کو چھیڑنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق ان کا ٹیکہ انسانی آزمائش کے قریب پہنچ چکا ہے اور انجکشن میں ڈالا گیا ایک ایجنٹ انسانی علاج کےلیے ایف ڈی اے نے پہلے ہی منظور کرلیا ہے جبکہ دوسرا کئی طرح کے کینسر کے کلینیکل ٹرائلز کا حصہ ہے اور امید ہے کہ وہ بھی باقاعدہ طور پر انسانوں کےلیے منظور کرلیا جائے گا۔

اگرچہ امنیاتی طریقے سے کینسر کے علاج کے کئی تجربات کیے جاچکے ہیں لیکن ان کے کچھ سائیڈ ایفیکٹس سامنے آئے ہیں لیکن اس ضمن میں اسٹینفرڈ ماہرین کا طریقہ قدرے بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر لیوی کے مطابق انجکشن میں استعمال ہونے والے ایجنٹوں کی معمولی مقدار خود رسولی کے خلیات کو سرگرم کرتی ہے اور پھر اس سے سرطانی خلیات ٹوٹنے اور ختم ہونے لگتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خون کے سفید خلیات میں سے ایک قسم کے خلیات ٹی سیلز ہوتےہیں جو عام طور پر بدن کا امنیاتی نظام برقرار رکھتے ہیں اور کینسر کے خلیات سے لڑتے ہیں لیکن کینسربہت چالاکی سے انہیں جل دے کر ٹی سیلز کی گرفت سے آزاد ہوکر رسولیاں بناتا رہتا ہے۔

ماہرین نے انجکشن میں دونوں ایجنٹوں کی چند مائیکرو گرام مقدار شامل کی اور انہیں رسولی کے سخت حصے تک پہنچایا تو ٹی سیل سرگرم ہوئے، رسولی تک پہنچے اور وہاں سرطانی خلیات کو نشانہ بنانے لگے۔ اسٹینفرڈ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کئی اقسام کے کینسر ختم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔

تجرباتی طور پر اس عمل کو 90 سرطان زدہ چوہوں پر آزمایا گیا تو ان میں سے 87 چوہے کینسر سے پاک ہوگئے تاہم بقیہ 3 میں کینسر دوبارہ پیدا ہوا لیکن دوبارہ ایک اور انجکشن لگانے سے وہ بھی ختم ہوگیا۔ ان چوہوں کو چھاتی، آنتوں اور جلد کے سرطان میں مبتلا کیا گیا تھا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+
کیٹاگری میں : صحت