عطائیت،عدلیہ احکامات اور تقاضے

پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے عطائی و جعلی ڈاکٹروں کے خلاف باقاعدہ کاروائی کے لئے لسٹیں جاری کی گئی ہیں۔اس کی وجوہات یہ ہیں کہ چند روز قبل معزز عدلیہ کی جانب سے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے پولیس کو عطائیت کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ عطائی ڈاکٹرز کو گرفتار کیا جائے۔بے شک اس ناسور کی وجہ سے مملکت خداداد کو ناقابل تلافی نقصانات اٹھانے پڑے۔سب باتیں مان بھی لی جائیں تو ایک حقیقت نمایاں ہے کہ ایسے مقامات ہیں جو کئی دہائیوں سے غریب اور پسے ہوئے لوگوں کو انتہائی سستی طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں جن کی وجہ سے کوئی جانی نقصان بھی تاحال ریکارڈ نہیں کیا گیا۔بات سوچنے کی تو یہ ہے کہ کیا ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی فیس دینے کی ہماری غربت کی ماری عوام استطاعت رکھتی ہے؟ساٹھ فیصد بیسک ہیلتھ یونٹس پر عملہ ریگولر خدمات نہیں دیتا۔جو ان ہیلتھ سنٹرز کی حالت زار ہے وہ دنیا ہر روز دیکھتی ہے۔ہسپتالوں کے فرشوں پر تڑپ تڑپ کر مرنے والے واقعات پر کیا کاروائی ہوئی۔قوم کڑوا دردناک زہر کھانے سے میٹھا زہر کھانے کو تیار ہے،اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جن کو کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کہا جاتا ہے۔میرے جہلم ہی کی مثال لے لیں،سرکاری ہسپتالوں میں کیا کیا نہیں ہوا۔میڈیا سے دنیا نے دیکھا۔خیر اب معزز عدالت عالیہ کے احکامات پر عمل بھی جاری ہے۔محکمہ صحت کی جاری کردہ لسٹوں کے مطابق پنجاب کو 10 ریجنز میں تقسیم کیا گیا ہے۔جن میں درج ذیل ریجنز اور اضلاع کو ترتیب وار تقسیم کیا گیا ہے۔(1)۔ریجن لاہور:ضلع لاہور51،(2)۔ریجن شیخوپورہ:ضلع شیخوپورہ 66،قصور51،ننکانہ 619،(3)۔گوجرانوالہ ریجن:ضلع گوجرانوالہ89،سیالکوٹ31،گجرات14،نارووال 10،منڈی بہاؤالدین 12،(4)۔راولپنڈی ریجن:ضلع راولپنڈی 41،جہلم 39،اٹک 17،چکوال 9،(5)۔سرگودھا ریجن:سرگودھا 136،خوشاب47،میانوالی51،بھکر73،(6)۔فیصل آباد ریجن:فیصل آباد533،جھنگ70،چنیوٹ16،ٹوبہ ٹیک سنگھ53، (7)۔ساہیوال ریجن:ساہیوال 28،اوکاڑہ 18،پاکپتن 15،(8)۔ملتان ریجن:ملتان 20،خانیوال319،وہاڑی7،لودھراں 58،(9)۔ڈیرہ غازی خان ریجن:ڈیرہ غازی خان 134،مظفر گڑھ 97،راجن پور52،لیہ41،(10)۔بہاولپورریجن:بہاولپور60،بہاولنگر49،رحیم یار خان101۔مجموعی طور پر پنجاب میں 3143 عطائی و جعلی ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں،جبکہ صوبہ بھر میں سب سے زیادہ عطائی و جعلی ڈاکٹرز ننکانہ صاحب میں 619 اورسب سے کم ضلع وہاڑی میں 7 رپورٹ کئے گئے ہیں۔اگر غیر جانب دارانہ سروے کروایا جائے تو پنجاب کی لسٹوں میں دیئے گئے اعدادوشمار اس سے کہیں زیادہ ہونگے۔میرے قارئین بہنو اور بھائیو!بلاشبہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہو جائے گی جو اس گھناؤنے اور انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے کام میں ملوث ہوں گے۔کیا حکومت یا متعلقہ اداروں مبینہ عطائیت ختم کرنے سے پہلے یا بعد میں کوئی پلان بنایا۔کیا سرکاری ہسپتالوں میں عطائیت نہیں چلتی۔جس کے خلاف میڈیا پر رپورٹس آنے پر محظ معطلیاں سامنے آتی ہیں،مزید بدنامی سے بچنے کے لئے صفائیاں کروائی جاتی ہیں،جب کہ اداروں میں بیٹھے لوگوں کے تن کے اندر کی صفائی کو نظر انداز ہی رکھا جاتا ہے۔کتنے ہی کیسز رپورٹ ہوئے میڈیا پر کتنے ڈاکٹرز کو جیل ہوئی،کسی کو نہیں۔قانون تو ”ماڑے ماڑے “ لوگوں کے لئے ہوتے ہیں۔معززعدلیہ کے احکامات پر جان نثار۔لیکن جو کام ادارے کرتے ہیں ان پر تو کوئی چوہدری نثار ہی نثار کیا جاسکتا ہے۔جو سچ بولے وہ غدار۔یہ تو دستور ہے ہمارا۔ایک یونین کونسل میں ایک بیسک ہیلتھ سنٹر ہوتا ہے۔جہاں اول تو ایم بی بی ایس ڈاکٹر دستیاب نہیں عملہ بھی ”پھدو کھاتا تاجا حوالدار“۔کیا کیا جائے کس کو رونا سنایا جائے۔جہاں ڈاکٹرز دستیاب ہیں اب وہ 24 گھنٹے بیٹھنے سے رہے۔وہ چھٹیاں بھی کرتے ہیں،کیوں کہ انسان کے سے حالات میں اتار چڑھاؤ بھی ہوتا ہے،ڈسپنسر ہی ادویات دے دیتے ہیں۔ایسا تضاد کیو ں؟اگر کسی گاؤں سے سنٹر ہی کوسوں دور ہو تو وہاں کسی کو بخار،نذلہ،کھانسی جیسی تکلیف کا سامنا ہوتو وہ کیا کرے گا۔مائی پھتو ہی تو اس کے لئے بچے گی۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ عدالت عظمیٰ اور حکومت کا یہ اقدام نامناسب ہے۔ایسا نہیں۔کہنے کامقصد ہے کہ جو بھی ہو صحت کے حوالے سے متبادل انتظامات ایسے ہوں کہ عوام کو تکلیف اور اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ایک عام کلینک میں ڈلیوری کیس پر حتی الامکان پانچ ہزار تک خرچ آتا ہے۔جبکہ کوالیفائیڈ ڈاکٹر 25 سے تیس ہزار لیتے ہیں۔کیا وہ بچے یا بچی کے ساتھ عمرہ کا ٹکٹ دیتے ہیں جو اتنے پیسے لیتے ہیں۔اسے کیا کہوں میں ظلم کے سوا۔میری یونین کونسل میں کم وبیش آٹھ گاؤں ہیں ہیلتھ سنٹر ایک ہے۔ہاں وہاں سہولیات ضرور میسر ہیں ایکسرے اور الٹرا سائنڈ کی لیکن وہ جنگو میں ہے۔اس سے گڑھا سلیم،جنگو،رڑیالہ،کوٹ بصیرہ کے لوگ تو فوری استفادہ کر سکتے ہیں لیکن باقی کہاں جائیں۔میں خود گواہ ہوں کہ ایک بار میڈیکل ٹیسٹ کروائے نجی لیب سے 13 سو روپے میں۔جبکہ کہ وہی عام کلینک سے جہاں ایک ڈاکٹر صاحب سے پانچ سو میں تمام ٹیسٹ ہوجانے تھے۔عام ڈاکٹرز جن سے ہمیں ابتدائی پچاس سے ایک سو میں بھی طبی امداد مل جاتی ہے۔جبکہ کسی ایم بی بی ایس تو منہ دکھائی کے ہی پانچ سو سے ایک ہزار لے لیتے ہیں۔ہاں ان کی مجبوری کیا ہے یہ الگ بات۔آلو گوبھی کے نرخ حکومت طے کر سکتی ہے تو پھر ان کے علاج معالجے کے بھی نرخ مقرر ہونے چاہیئں۔چھاپے مارنے والے تو یہ کام شکار کرنے کی طرح کرتے ہیں کہ عام لوگوں کو ان کی طاقت کا پتا چلے۔مگرمچھوں کی طرف جھانکنا بھی گوارا نہیں ہوتا ان کو کہ وہ خون خوار ہیں کھا جائیں گے۔معزز عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کا جب عطائیوں کو گرفتار کرنے کا پتا چلا تو سب سے پہلے ذہن جو چیزیں آئیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
عام طور ہمارے زیادہ تر دیہات جن شہروں کے قریب ترین ہیں جہاں رورل سنٹر یا تین چار پرائیویٹ ڈاکٹرز میسر ہیں وہاں تک رسائی کے لئے کم از کم آدھے سے ایک گھنٹہ بھی درکار ہوتا ہیں وہ بھی اگر تیز رفتار سواری میسر ہو تو۔کوئی عام ڈاکٹر ہی ملتا ہے جو ایمر جنسی میں مرہم پٹی یا بخار یا در کی میڈیسن دے سکتا ہے۔۔۔تو اس کی گرفتاری سے پہلے دیہات اور آبادیوں کے قریب ہر گاؤں میں ایک گورنمنٹ ڈسپنسری میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر تعینات کیا جائے۔میرا تعلق جس معاشرے سے ہیں وہاں ایک مزدور کو پانچ سو یا اس سے بھی کم دیہاڑی ملتی ہے وہ بھی مسلسل کام ہوتو۔ممکن ہے مہینے میں دس یا پندرہ دن ہی کام نہ ہو وہ کہاں جائے گا۔جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ جن کو کوالیفائیڈ کہا جاتا ہے وہ منہ دھائی کے ہی پانچ سو لیتے ہیں۔ان کے خلاف کیا ہو سکتا ہے۔جبکہ وہی دوائی عام ڈاکٹر جس کو عطائی یا جعلی ڈاکٹر کہا جاتا ہے وہ چالیس سے پچاس میں یا ایک سو میں ہی فراہم کر دیتا ہے۔ڈاکٹرز کی فیسوں کو مقررحد میں رکھنے کے لئے بھی قانون سازی کی جائے اور عملدرآمد کروایا جائے۔چیک اپ کی کم از کم فیس پچاس روپے مقرر کی جائے۔ادویات کے نرخوں کے لئے بھی سخت پالیسیاں اپنائی جائیں۔بعض اوقات تو مریض پرچی لیکر بیٹھ بیٹھ کر ہی اپنا علاج بھول کر مایوس گھر لوٹ جاتا ہے۔یہاں ایک بات جو اہم ہے کہ بعض جگہوں پر ڈسپنسر ادویات ہوتے ہوئے بھی ڈاکٹر کی پرچی کے سوا الگ سے پرچی بنا دے گا کہ فلاں فلاں سٹور سے یہ دوائی لے لیں۔جلد افاقہ ہو گا۔بھئی بات یہ ہے کہ کیا معلوم اس کے پاس اتنے بھی پیسے نہ ہوں۔ایسے لوگوں کی پشت پناہی ہوتی ہے جو کمیشن لیتے ہیں اور اگر ایس کرنے پر کوئی سراپا احتجاج ہو تو وہ اپنی آ قاؤں کے بلبوتے پر صاف کلئیر ہو جاتے ہیں۔یہ تضاد ہے لیکن اگر اسے منافقت کہوں تو شاید بیجا نہ ہوگا۔میں معزز چیف جسٹس صاحب سے مطالبہ کرنا چاہوں گا کہ میں نہ عطائیوں میں ہو ں نہ ان کا حامی ہوں لیکن میری جناب میری اپنی رائے ہے ممکن ہے غلط بھی ہو اداروں اور عدلیہ کی نظر میں۔گزارش یہ ہے کہ کاروائی ضرور کریں لیکن تمام باتوں کا مرکز ہیں کہ متبادل میڈیکل سہولیات جو ریاست کی حکومت کی ذمہ داری بھی اسے پورا کرنے کا پابند کیا جائے۔سرکاری ہسپتالوں میں بیٹھنے والے ڈاکٹرز کے حوالے سے بھی سخت قوانین بنائے جائیں اور ان کی پاسداری کو ہرصورت ممکن بنایا جائے۔کاروائیاں بالکل ہونے چاہییں لیکن تمام حالات و واقعات پر غور بھی ضرور کیا جائے۔پھر تو ہم بھی حکومت اورعدلیہ کے شانہ بشانہ ہوں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+