تحصیل دینہ کے مرکزی گاؤں مدوکالس کا منگلا روڈ کے ساتھ واقع کروڑوں مالیت کا تالاب کا رقبہ گٹر بن گیاگندگی نے مکینوں کا جینا حرام کردیا

جہلم(ادریس چوھدری سے) تحصیل دینہ کے مرکزی گاؤں مدوکالس کا منگلا روڈ کے ساتھ واقع کروڑوں مالیت کا تالاب کا رقبہ گٹر بن گیا،علاقے کے گندے پانی نے زیر زمین پانی کو آلودہ کر دیا،بدبو،گندگی نے مکینوں کا جینا حرام کردیا،فلاحی کام کے استعمال کے لئے چودھراہٹ آڑھے ا ٓگئی۔قبضہ گروپ تالاب پر قبضہ کرنے کے لئے بے تاب،سب کی للچائی نظریں قیمتی رقبے پر لگ گئیں،وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف جاتے جاتے اس تالاب پر ہسپتال بنانے کا اعلان کر دیں،مقامی لوگوں کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق تحصیل دینہ کے مرکزی گاؤں مدوکالس کا منگلا روڈ کے ساتھ واقع کروڑوں مالیت کا تالاب کا رقبہ برباد ہو رہا ہے۔10کنال پر مشتمل یہ مفید عام رقبہ پورے گاؤں کی ملکیت ہے،جب کہ گاؤں کا مخصوص ٹولہ کافی رقبے پر پہلے ہی قبضہ جما چکا ہے اور باقی ماندہ قیمتی رقبے کا ہڑپ کرنے کا ارادہ بنائے بیٹھا ہے۔قدیم زمانے سے واقع یہ تالاب اب ایک گٹر کی شکل اختیار کر چکا ہے،علاقے کا گندہ پانی اس میں جمع ہو رہا ہے،بدبو،گندگی سے تعفن اٹھ رہا ہے،مچھروں،مکھیوں کی بہتات سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے،مدوکالس کا زیر زمین پانی آلودہ ہو چکا ہے۔کروڑوں مالیت کے اس مفاد عام رقبے کا فلاحی کام کے استعمال میں لانے کے لئے گاؤں کے”مخصوص چوہدری“رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور للچائی ہوئی نظروں سے اس پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔اس قیمتی رقبے پر ہسپتال،بنک،ڈاک خانہ،کھیلوں کا میدان بنایا جا سکتا ہے،جس کا پورے علاقے کو فائدہ ہو گا۔ساتھ ہی گندگی کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منگلا روڈ کے ساتھ واقع اس قیمتی رقبے کو تباہ ہونے سے بچائیں اور فوری طورپر اس مقام پر کوئی فلاحی منصوبہ شروع کریں تاکہ مقامی لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچ سکے۔اس اقدام سے مقامی قبضہ گروپ کا بھی توڑ ہو سکے گا اور ساتھ ہی گاؤں کو غلاظت سے بھی نجات مل جائے گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+