ملکی ترقی میں خواتین کے کردار کے پیش نظر حکومت نے خواتین کے تحفظ کے لئے اہم قانونی اقدامات کئے ہیں۔سیکریٹری خاتون محتسب پنجاب عارف عمر عزیز

جہلم(ڈاکٹر عمران جاوید خان)سیکریٹری خاتون محتسب پنجاب عارف عمر عزیز نے کہا ہے کہ ملکی ترقی میں خواتین کے کردار کے پیش نظر حکومت نے خواتین کے تحفظ کے لئے اہم قانونی اقدامات کئے ہیں۔ ڈی سی کمپلیکس ضلع کونسل ہال میں خواتین کو ملازمت کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ کے حوالے سے آگاہی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سید نزارت علی اور ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر چوہدری نواز وڑائچ نے بھی خطاب کیا اور ہراسمنٹ ایکٹ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ سیکریٹری خاتون محتسب پنجاب عارف عمر عزیز نے کہا کہ حکومت نے ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کے لئے ہراسمنٹ ایکٹ 2012 کے تحت خواتین کو ملازمت کی جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک جرم قرا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو گھورنا، چھونا، ہراساں کرنا،چھیڑنا، بلیک میل کرنا یا نفسیاتی دباؤ ڈالنا جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی ترقی میں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے، کوئی بھی ملک خواتین کے تعاون، لگن اور محنت کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ سید نزارت علی نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا پہلے ایک سماجی مسئلہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب صوبہ پنجاب میں ملازمت کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کا ایکٹ 2010 ء (ترمیم شدہ 2012)نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائے ملازمت پر خواتین کے لئے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا،آوازیں کسنا، غیر اخلاقی رویہ رکھنا، زبردستی تعلق رکھنے پر مجبور کرنا، انکار کی صورت میں سنگین دھمکیاں دینا، دفتری مراعات و ملازمت / ترقی کے مواقع کو ذاتی تعلق سے مشروط کرنا خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت صوبہ پنجاب میں واقع تمام سرکاری، نیم سرکاری، رجسٹرڈ غیر سرکاری و نجی اداروں، ہسپتالوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور فیکٹریوں میں انکوائری کمیٹیوں کا قیام لازمی ہے اور انکوائری کمیٹیوں میں ایک خاتون ممبر کی موجودگی لازمی ہے۔اب خواتین خوف زدہ ہونے یا ملازمت چھوڑ کر گھر بیٹھنے کی بجائے اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنے ادارے میں قائم کردہ ہراسمنٹ انکوائری کمیٹی سے رابطہ کر سکتیں ہیں یا خاتون محتسب پنجاب کو برائے راست درخواستیں دے سکتیں ہیں –

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+